مہینوں ایئرپورٹ پر رہنے والے شامی شہری کو کینیڈا میں پناہ مل گئی


لائشیا کے ایک ایئرپورٹ پر سات ماہ تک پھنسے رہنے والے شامی شہری کو کینیڈا میں پناہ دے دی گئی ہے۔

شامی شہری حسن ال کونطار کو اس وقت بین الاقوامی توجہ حاصل ہوئی تھی جب انھوں نے کوالالمپور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اپنی ویڈیوز پوسٹ کرنا شروع کی تھیں۔

37 سالہ حسن ال کونطار نے دو ماہ ملائشیا میں ایک حراستی مرکز میں گزارے ہیں اور ان کے کینیڈین سپانسرز نے اس کا کیس جلد نمٹانا چاہتے ہیں۔

پیر کی شام کینیڈا کے شہر وینکوور میں ان کی آمد متوقع ہے۔

برٹش کولمبیا مسلم ایسوسی ایشن اور کینیڈا کیئرنگ سوسائٹی نے ان کو کینیڈا بطور مہاجر آنے کے لیے سپانسر کیا تھا۔

کینیڈا کیئرنگ سوسائٹی کی رضا کار لوری کوپر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے سنا کہ وہ جمعرات کو کینیڈا آرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ انتہائی اطمینان بخش ہے، لیکن اب بھی کچھ ناقابل یقین ہے۔’

‘جب تک انھیں میں ایئرپورٹ پر گلے نہ لگا لوں اس وقت تک واقعی یقین نہیں آئے گا۔ یہ ایک طویل، طویل سفر ہے جس میں بہت سے نشیب و فراز تھے۔’

حسن ال کونطار کے وکیل نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ کینیڈا کی ان کی رہائش کی منظوری دے دی گئی ہے اور وہ راستے میں ہیں۔’

لوری کوپر کا کہنا تھا کہ کونطار نے بورڈنگ گیٹ سے پیغام بھیجا ہے کہ وہ انھیں دیکھنے کے لیے مزید انتظار نہیں کر سکتے۔

لوری کوپر کا کہنا تھا کہ ‘ان کی صورتحال دنیا بھر میں تمام مہاجرین کو پیش آنے والی مشکلات کی عکاس ہے۔’

‘ان کے لیے رہنے کے لیے محفوظ جگہ ڈھونڈا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ وہ خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں۔’

ان کی تنظیم کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے لوگوں نے کونطار کو کینیڈا پہنچانے کے لیے چندہ جمع کرنے میں مدد کی ہے۔

کینیڈا کے وفاقی امیگریشن کے محکمے نے پرائیویسی کے قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے کونطار نے کینیڈا آنے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

ای میل کے ذریعے جاری کردہ ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ‘ہم انفرادی کیسز پر رائے نہیں دیتے، ہر درخواست کی منصفانہ طریقے سے جانچ پڑتال کی جاتی ہے، جو اس کی میرٹ کے مطابق ہوتی ہے۔’ انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے کونطار کے کیس میں مدد کی اور کینیڈین کیئرنگ سوسائٹی نے ایک آن لائن پٹیشن جاری کی تھی جس میں کینیڈا کے وزیر امیگریشن سے انھیں اجازت دینے کی درخواست کی گئی تھی جس پر 62ہزار لوگوں نے دستخط کیے تھے۔

حسن ال کونطار متحدہ عرب امارات میں ایک انشورنس کمپنی میں کام کر رہے تھے جب سنہ 2011 میں شام میں جنگ کا آغاز ہوا تھا۔

وہ اپنا پاسپورٹ دوبارہ نہیں بنوا سکتے تھے کیونکہ انھوں نے اپنے آبائی ملک میں فوجی تربیت مکمل نہیں کی تھی، لیکن وہ واپس نہیں جانا چاہتے تھے، انھیں ڈر تھا کہ انھیں گرفتار کر لیا جائے گا یا فوجی میں بھرتی کردیا جائے گا۔

چنانچہ وہ غیرقانونی طور پر متحدہ عرب امارات میں ہی مقیم رہے، لیکن سنہ 2016 میں گرفتار کر لیے گئے۔

سنہ 2017 میں وہ نیا پاسپورٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، لیکن انھیں ملائشیا ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ ملائشیا دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جہاں شامی شہریوں کو ملک میں داخلے کے وقت ویزہ جاری کیا جاتا ہے۔ انھیں تین ماہ کا سیاحتی ویزہ دیا گیا تھا۔

وہ اس کی معیاد ختم ہوئی تو انھوں نے ترکی جانے کی کوشش لیکن انھیں جہاز میں سواز نہ ہونے دیا گیا۔ وہ کمبوڈیا گئے لیکن وہاں سے انھیں واپس بھیج دیا گیا۔

وہ تین ماہ اس کشمکش میں پھنسے رہے، اس دوران وہ ایئرپورٹ پر مقیم رہے اور ہوائی کمپنی کے عملے کی جانب سے دیے جانے والے کھانے پر گزارا کر تے رہے۔

حسن ال کونطار کا تعلق دمشق کے جنوب میں واقع شہر سویدہ سے ہے اور انھوں نے ایکواڈو اور کمبوڈیا میں بھی پناہ کی درخواست دی تھی جو منظور نہیں ہوئی۔

کینیڈا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *