کینیڈا: بلوچ سٹوڈنٹس ٓارگنائزیشن سربراہ کی سیاسی پناہ کی درخواست معطل

ٹورانٹو (محسن عباس) کینیڈین ریفیوجی بورڈ نے بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریک کی رہنما کریمہ محراب کی سیاسی پناہ کی درخواست اگلے سال تک معطل کر دی ہے۔ 

بلوچ سٹوڈنٹس ٓارگنائزیشن کی رہنما،تینتیس سالہ کریمہ محراب نے کینیڈا میں سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے جس پر سماعت کو ٓائندہ برس کے اوائل تک معطل کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اب ان کی سیاسی پناہ کی درخواست کی سماعت سے پہلے کینیڈین بارڈر سروسز کا محکمہ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ ٓایا وہ کینیڈا میں داخل ہوکر سیاسی پناہ دائر کرنے کی مستحق ہیں بھی کہ نہیں۔

محکمہ کینیڈین بارڈر سروسز نے اس بات کا فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ بلوچ سٹوڈنٹس ٓارگنائزیشن پاکستان جیسے ملک کے خلاف جہاں ایک جمہوری حکومت موجود ہےحکومت مخالف پر تشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

ٹورانٹو سٹار کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے مطابق کریمہ محراب کی سیاسی پناہ کی درخواست کی سماعت رواں برس اکتوبر میں ہونی تھی۔

کریمہ محراب  کے مطابق انہوں نے سن دو ہراز چھ میں اس تنظیم کی رکنیت اس وقت حاصل کی جب وہ تربت کے عطا شاد ڈگری کالج میں ریر تعلیم تھیں۔  وہ سن دو ہزار چودہ میں تنظیم کے اس وقت کے سربراہ زاہد بلوچ کے اغوا کے بعد اس تنظیم کی سربراہ بن گیئں۔

پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان ندیم کیانی نے میڈیا کو بتایا کہ کریمہ محراب کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ سیاسی کارکن پاکستان مخالف جھوٹ کیس کرکے کینیڈا میں سیاسی پناہ طلب کر رہے ہیں۔

کریمہ محراب کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم نے کھبی بھی کسی پر تشدد کاروائی میں حصہ نہیں لیا۔

یاد رہے کہ بلوچ سٹوڈنٹس ٓارگنائزیشن پرپاکستان کی حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے۔ مگر اس تنظیم کا شمار ان تنظیموں کی لسٹ میں نہیں ہوتا جن پر کینیڈین حکومت نے دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر پابندیاں عائد کر رکھی ہوں۔     

کینیڈا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *