کینیڈا: ماؤنٹیڈ پولیس کی خواتین کو حجاب پہننے کی اجازت

کینیڈا کی شاہی ماؤنٹیڈ پولیس نے، (آر سی ایم پی) جسے عام طور پر ماؤٹینز بھی کہا جاتا ہے، اپنے خواتین عملے کو وردی کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت دے دی ہے۔

حکومت کے ترجمان سکاٹ بارڈسلی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کینیڈا کی مختلف برادریوں میں تنوع کی عکاسی کرنے کے علاوہ مسلمان خواتین کی توجہ حاصل کرنا ہے۔

کینیڈین پولیس کی یہ وردی جو اپنی بڑے کناروں والی ٹوپی کی وجہ سے مقبول تھی، دو صدی پہلے متعارف کروائے جانے کے بعد بہت کم تبدیل ہوئی ہے۔

کینیڈا کے سوشل میڈیا کے مطابق پولیس نے کام کے لیے موزوں تین قسم کے حجاب کے ڈیزائن آزمائے گئے جس کے بعد ایک ڈیزائن منتخب کر لیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق کینیڈا میں رواں برس یہ پالیسی خاموشی سے متعارف کروائی گئی تھی، اگرچہ افسران کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیں دی گئی تھی۔

اخبار لا پریس کے مطابق گذشتہ دو برس کے دوران 30 افسران نے مذہبی اور ثقافتی وجوہات کی بِنا پر وردی کے قوانین کو نرم کرنے کی بات کی تھی۔

زیادہ تر کیسوں میں یہ درخواستیں مرد افسروں کی جانب سے دی گئی تھیں کیونکہ وہ داڑھی رکھنا چاہتے تھے۔

کینیڈا میں سکھ افسروں کو سنہ 1990 سے پگڑی پہننے کی اجازت دی گئی تھی۔

سرخ وردی، چمڑے کے جوتے اور ہیٹ 19 ویں صدی کی یاد دلاتے ہیں جب کینیڈین گھڑ سوار پولیس امریکی شراب کے سمگلروں کا پیچھا کیا کرتی تھی۔

برطانیہ کی ملٹری وردیوں سے متاثر اس وردی میں اب تک بہت معمولی تبدیلی کی گئی ہے۔

ٹورناٹو اور ایڈمنٹن کے بعد آر سی ایم پی ایسی تیسری تنظیم ہے جس نے پولیس فورس میں خواتین کو حجاب پہننے کی اجازت دی ہے۔

مونٹریال کے اخبار لا پریسی کا کہنا ہے کہ ایک اندرونی میمو کے مطابق اس حجاب کو ضرورت پڑنے پر جلدی اور آسانی کے ساتھ ہٹایا جا سکتا ہے۔

کینیڈا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *