ملٹن کی سالگرہ ، سموسے پر لڑائی اور ہمارا مستقبل

سمندر پار ۔ محسن عباس

ٓاج جولائی چار سن دوہزارسولہ کے دن جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تواس سے ٹھیک ایک سو انسٹھ سال قبل میرے کینیڈین قصبے ملٹن کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ہیپی برٹھ ڈے ملٹن۔

ملٹن میں 4 جولائی سن 1857 کو ہونے والی پہلی اس دن قونصل میٹنگ میں جارج براون نامی شخص کو ملٹن کا پہلا مئیر منتخب کیا گیا تھا۔ 

مسٹر براون نے کھبی سوچا بھی نہیں ہوگا کی ٹھیک ڈیرھ سو سال بعد اس قصبے میں ہرطرف “براون ہی براون” نظر ٓائیں گے۔ 

اسی طرح 1858 میں اپنی اشاعت کا ٓاغاز کرنے والے کینیڈا کے سب سے پرانے کمیونٹی اخبار ملٹن کینیڈین چیمپئن کے پبلشر  کو کیا معلوم تھا سن دوہزار سولہ میں اس کے رپورٹر ان براون رنگت والے پاکستانیوں کی ٓاپس کی لڑائیوں کو سمجھنے کیلئے اپنا بے شمار وقت اور سرمایہ اردو اور پنجابی کے ترجمے کرانے اور ان دو زبانوں میں فرق معلوم کرنے میں صرف کریں گے۔

 سن دوہزار چودہ میں گوکل میں گھر تلاش کرتے کرتے ملٹن میں اکلوتے پاکستانی کونسلر ذیشان حمید کی ویب سا ئٹ تک رسائی ہوئی تو اس کا پیچھا کرتے کرتے میں بھی برٹش کولمبیا کے خوبصورت شہر وکٹوریہ سے ملٹن ٓان پہنچا۔ اس قصبے میں میرے پہلی ملاقات بھی ذیشان حمید سے ہوئی۔ بقول ان کے وہ کینیڈا میں پیدا ہوئے مگر پاکستانیوں کے ترقی کے خواہاں ہیں۔ بعد میں میں نے ان کی کینیڈا میں پیدا نہ ہونے کے معاملے پر کئی دوستوں کی باتیں سنیں جن کا خیال ہے کہ ذیشان حمید پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ بھئی ذیشان کمیونٹی کی خدمت کرنا چاہتا ہے وہ اپنی جائے پیدائش پر کمیونٹی سے جھوٹ کیوں بولے گا۔ سچ کیا ہے یہ تو اللہ جانے یا ذیشان حمید ۔ میں نے ان باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میں نے اپنا کام جاری رکھنے کی تلقین کی۔

بطور ایک اخباری رپورٹر پاکستانی کمیونٹی کے بارے میں خبر رکھنا میرے فرائض میں شامل ہے۔ ان دو سالوں میں ملٹن میں میں نے اکثر لڑائیاں بھی رپورٹ کی ہیں ۔ جن میں مقامی کونسلر یا لبرل کے وفاقی انتخابات، مسجد کی کمیٹی کے سالانہ انتخابات اور یہاں تک کہ سموسے کی قیمت مسی ساگا سے دس سینٹ زیادہ پر جیسی لڑائیاں قابل ذکر ہیں۔

مئیر براون کا یہ قصبہ تو براون ترین ہوتا جا رہا ہے مگر مجھے نہیں لگتا کہ اس قصبے میں مستقبل قریب میں کوئی ہمارا پاکستانی نژاد ٹاون کونسلربن سکے گا۔ اس کی وجہ ہمارا اکلوتا کونسلرممبر ہے جس نے حالیہ قونصل میٹنگ میں اپنا قیمتی ووٹ ڈالتے ہوئے ٹاون کونسلروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو نہ صرف روکنے بلکہ مزید کم کرنے کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے کمیونٹی کویہ پیغام دیا ہے کہ “نہ کھیلیں گے اور نہ ہی کھیلنے دیں گے”۔

میرے علاوہ ٓاپ میں سے بہت ساروں کو معلوم ہوگا کہ اس اکلوتے لاڈلے نے گزشتہ برس ہونے والے لبرل نامی نیشن انتخابات میں میرے چند دوستوں کو یہ لالی پپ دیا کہ فکر نہ کریں ٓاپ کو ملٹن کا کونسلر بنوا دوں گا۔ ان امیدواروں میں میرے چند قریبی دوست بھی شامل تھے۔

گزشتہ برس کمیونٹی ٓاپس کی ہٹ دھرمی اور لڑائیوں سے بٹ گئی اور ہمارا ایک امیدوار وفاقی الیکشن ہار گیا۔

میرا یہ دعوی ہے کہ جب تک کمیونٹی لڑتی رہے گی قیامت تک ملٹن میں ہمارا امیدوار اسمبلی میں نہیں پہنچ سکتا۔ مجھے وفاقی امیدوار کے ہارنے سے زیادہ دکھ ملٹن کے کونسلروں کی تعداد میں کمی کرنے کے فیصلے پر ہوا ہے۔

کیا اچھا ہوتا اگر ہمارے ایک دو اورپاکستانی نژاد کونسلر منتخب ہوتے اور مقامی سطح پر سیاسی سمجھ بوجھ حاصل کرتے کرتے ایک دن صوبائی اور قومی انتخابات میں معرکہ مارتے۔ یہ کونسلر ایک چھوٹے پودے کی طرح پرورش پاتے پاتے ایک تن ٓاور درخت بن جاتے اور ٓاج سے ٹھیک ڈیڑھ سو سال بعد ٓانے والی ہماری نسلیں فخر سے کہتیں کہ سن 2016 میں ہمارے ٓاباو اجداد نے ہمارے لئے سیاسی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو بیج بویا ٓاج ہم اس کا پھل کھا رہے ہیں۔

ایسے ہی جیسے ہمارے سکھ بھائیوں نے ایک سو پچیس برس قبل برٹش کولمبیا صوبے میں یہ طے کیا تھا کہ اپنی زبان، مذہب اور کلچر کے نام پر اکٹھے ہوں گے اور اس ملک میں ترقی کریں گے۔

کل میں سکھوں کی کینیڈا میں ترقی پر یہ بھاشن ایک پاکستانی کے ہاں افطاری کے دوران دے رہا تھا کہ میزبان بولے ” لعنت بھیجو جی ہماری ترقی کرنے یا نہ کرنے پر۔ یہ بتاو سستے سموسے کس سردار کی دکان سے ملتے ہیں۔”

سیاست, کینیڈا, کینیڈا 150

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *